دہلی تشدد: اویسی نے کہا- پولیس کی یکطرفہ کارروائی، جلوس میں لہرائے گئے ہتھیار
دہلی کے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی کے دن ہوئے تشدد کے خلاف پولیس مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ تاہم اسدالدین اویسی نے پولیس کی کارروائی کو لے کر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ اسد الدین اویسی نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے تشدد کے لیے دہلی حکومت اور مرکز کی مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انصار کو ملزم بنانا بالکل غلط ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت تشدد چاہتی ہے۔ اویسی نے کہا کہ مسجد پر جھنڈا لگانے کی کوشش کی گئی۔ وہ لوگ تلوار لے کر آئے تھے۔ کیا اس ملک میں تلوار اٹھانا غیر قانونی نہیں تھا؟اویسی نے سوال کیا کہ پولس وہاں کیوں موجود نہیں تھی؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر انصاف چاہتے ہیں تو انکوائری کمیشن بنایا جائے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے ہیں۔ اویسی نے کہا کہ جو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لے گا، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن یک طرفہ اقدام اچھا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انصار ویڈیو میں لوگوں کو سمجھا رہے ہیں۔ اویسی نے کہا کہ آج دہلی پولیس کے کمشنر نے خود کہا ہے کہ جہانگیر پوری میں جو جلوس نکالا گیا تھا وہ بغیر اجازت کے نکالا گیا تھا۔ جب جلوس نکالا جا رہا تھا تو پولیس کیا کر رہی تھی؟ کیا پولیس تماشا دیکھنے بیٹھی تھی؟ اور جلوس میں اسلحے کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد تب ہوتا ہے جب حکومت چاہتی ہے، ایسا نہیں ہوتا جب حکومت نہیں چاہتی۔ چنانچہ یہاں بھی حکومت نے فرقہ وارانہ تشدد ہونے دیا۔ سب کچھ حکومت کے سامنے ہو رہا ہے، جس کی پوری ذمہ داری مودی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔اس سے قبل دہلی کے پولس کمشنر راکیش استھانہ نے کہا تھا کہ جہانگیر پوری تشدد کے سلسلے میں اب تک دونوں برادریوں کے 23 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس میں ملوث لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ طبقے، مسلک یا مذہب کی بنیاد پر نہیں بخشا جائے گا۔ پولیس سربراہ نے ان دعوؤں کی بھی تردید کی کہ ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران جہانگیر پوری کی ایک مقامی مسجد میں بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حالات کشیدہ رکھنے کے لیے کچھ لوگ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان پر دھیان نہ دیں۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ ہفتہ کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کی تحقیقات کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے اور اس سلسلے میں 14 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

