حسن اخلاق معاشرت میںکامیابی کی پہلی شرط
معاشرت میں کامیابی کی پہلی شرط حسن اخلاق ہے،انسان میں حسن اخلاق کی صفت بہت ہی عمدہ اور لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے والی ہے،انسان کی شخصیت کو بلند کرنے میں اس صفت کا کافی دخل ہے،یہ انسان کی تمام حیاتی طاقتوں کو ابھار دیتی ہے اور زندگی ومعاشرے کے حق کو ادا کرنے میں بہت ہی م¶ثر ہوتی ہے،حسن خلق کے علاوہ کسی بھی صفت کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے جذبات کو ابھار سکے اور زندگی کی تکلیفوں میں کمی کرسکے،جس شخص کے اندر یہ ممتاز روحانی صفت موجود ہوگی اس سے کبھی بھی دوسروں کو اذیت نہ ہوگی، بلکہ اس کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ اپنے چاروں طرف نشاط ومسرت کو ایجاد کرے ،تاکہ اس کے اطمینان بخش وجود کی وجہ سے شخصی پریشانیوں کو فراموش کرسکے، اور اپنے حلم وبردباری کی وجہ سے زندگی کی دشوریوں اور مشکلات سے نجات پاسکے۔
کسی بھی گروہ میں محبوب ومقبول بننے کا راز خوش خلقی میں مضمر ہے بداخلاقی کی علت چاہے جو ہو وہ دوسروں کے لیے قابل برداشت نہیں ،اگر آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کے بارے میں تحقیق وجستجو کریں تو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ بعض لوگ آپ کے دل میں جگہ پیدا کیوں کرسکے، اور اس کے برخلاف بعض لوگوں کے صفات واخلاق نے آپ کو ان کا گرویدہ کیوں بنا لیا اور انھوں نے آپ کے دل کو کیوں مسخر کرلیا۔خوش اخلاق آدمی کے لیے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں ،لیکن بداخلاق لوگ کسی بھی دروازے میں داخل ہونے کے لیے اس کو دبانے پر مجبور ہیں،سب سے اچھا کام وہی ہے جو ادب واحترام اور خوش اخلاقی سے کیا جائے،لیکن یاد رکھیے وہ ہی کشادہ روئی اور خوش اخلاقی سبب سعادت مندی وکمال ہے جو خلوص دل سے ہو ،اس میں ریاکاری اوربناوٹ کا شائبہ بھی نہ ہو،یعنی حسن ومہربانی دل کی گہرائیوں سے جوش مار کر نکلے ،ادب وحسن خلق جب تک باطنی وپاک ملکات کے سہارے نہ ہو،اس کی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی،صرف حسن ظاہری کسی کی پاکیزہ سیرت کی دلیل نہیں ہے،کیوں کہ ہوسکتا ہے یہی ظاہری اخلاق سیاہ قلب اور برباد دل کے ساتھ ہو۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلام کی ترقی اور نشرو اشاعت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ کے حسن خلق کو سب سے زیادہ دخل ہے۔اور یہی وہ اعلی صفت ہے کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود باری تعالی نے تعریف فرمائی ہے: ”اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِے´مٍ“ (سورہ¿ ن والقلم)اے نبی آپ اخلاق کے اعلیٰ پےمانہ پر فائز ہےں۔
اےک جگہ اللہ کا فرمان ہے:”فبمارحمة من اللہ لنت لہم ولو کنت فظاً غلےظ القلب لانفضو من حولک“ےعنی آپ اللہ کی رحمت سے ان کے لےے نرم ہےں ۔اگر آپ کہےں کج خلق اور سخت دل ہوتے تو ےہ لو گ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔
حضرت عائشہ صدےقہؓ فرماتی ہےں کوئی شخص بھی اچھے خلق مےں آنحضرت جےسا نہ تھاخواہ کوئی صحابی بلاتا ےا گھر کا کوئی شخص ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب مےں لبےک (حاضر ہوں) ہی فرما یا کرتے تھے۔حضرت انس ؓ سے رواےت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے خوش اخلاق تھے ،اےک روز مجھے کسی ضرورت کے لےے بھےجا مےں نے کہا کہ خدا کی قسم مےں نہ جاﺅں گا اور مےرے دل مےں ےہ تھا کہ جو حکم مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دےا ہے اس کے لےے ضرور جاﺅں گا، پھر مےں نکلا اور مےرا گذر کچھ بچوں پر ہوا، جو بازار مےں کھےل رہے تھے اتنے مےں ناگاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مےرے سر کے بال پےچھے سے پکڑے، جب مےں نے آپ کی طرف دےکھا تو آپ کو ہنستا پاےا ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا انس تم وہاں گئے تھے جہاں مےں نے تم کو بھےجا ، مےں نے کہا جاﺅں گا ےا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(مشکوٰة شرےف)
حضرت انسؓ راوی ہےں کہ مےں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اس وقت سے کی جب کہ مےں آٹھ برس کا تھا، مےں نے آپ کی خدمت دس برس تک کی، آپ نے کسی بات پر مجھے ملامت نہےں کی، اگر اہل بےت مےں سے کسی نے بھی ملامت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا اس کو چھوڑ دو، اگر تقدےر مےں کوئی بات ہوتی ہے تو ہو کر رہتی ہے۔(سےرة النبی)حسن اخلاق کی اہمیت وافادیت کا اندازہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے آپ لگا سکتے ہیں۔حضرت ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”سئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن اکثر مایدخل الناس الجنة قال تقوی اللہ وحسن الخلق وسئل عن اکثر ما یدخل الناس النار قال الفم والفرج“(ترمذی:۲۱۲) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ کون سی چیزیں (یعنی کون سے اعمال) لوگوں کو جنت میں لے جائیں گی؟آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرنا اور حسن خلق۔پھر آپ سے دریافت کیا گیا سب سے زیادہ کون سی چیزیں لوگوں کو دوزخ میں لے جائیں گی؟ آپ نے فرمایا منہ اور شرم گاہ۔
ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک منقول ہے:
”اِتَّقِ اللّٰہِ حَے´ثُمَا کُن´تَ وَاَت´بِعِ السَّےِّئَةَ ال´حَسَنَةَ تَم´حُہَا وَخَالِقِ النَّاسِ بِخُل´قٍ حَسَنٍ“ ۔(رواہ الترمذی ؒ)۔”اللہ سے ڈرتے رہو جہاں کہےں بھی رہو، اور بدی کے پےچھے نےکی کےا کرو، تا کہ وہ اسے مٹا دے ، اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پےش آےا کرو۔ حسن خلق ہی سے متعلق سنن ابوداﺅد ؒ کی ایک روایت مےںحضرت ابوہرےرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے:”اکمل المو¿ منےن اےماناً احسنہم خلقاً“ مومنوں مےں سب سے کامل اےمان والے وہ لوگ ہےں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
کسی بھی زمانہ میںادب واخلاق کی اتنی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی جتنی اس زمانہ میں سمجھی جاتی ہے، اس زمانہ میں جو شخص بھی اپنی زندگی میں ترقی وپیش رفت چاہتا ہے،اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے لیے خلوص ،محبت اوراچھے اخلاق کا سرمایہ اپنے پاس رکھتا ہو۔
اےک محقق خوش اخلاقی کے سلسلہ مےں اےک شخص کا ذاتی تجربہ لکھتے ہوئے تحرےر کرتا ہے کہ وہ شخص کہتا ہے :مےںنے طے کر لےا کہ نشاط اور کشادہ روئی وخوش اخلاقی کا اپنے بارے مےں تجربہ کروں گا ،ےہ طے کر لےنے کے بعد اےک صبح کو دفتر کے لےے روانہ ہوا،مےں مدتوں سے پرےشان اور غمگےن رہاکرتا تھا مےں نے اپنے سے کہا کہ مےں نے کئی مرتبہ دےکھا ہے کہ دوسروں کی خوش اخلاقی وکشادہ روئی نے مجھے طاقت ومسرت بخشی ہے اب مجھے ےہ دےکھنا ہے کہ کےا مجھ مےں اتنی طاقت وقدرت ہے کہ مےں بھی دوسروں کو متاثر کرسکتا ہوں ےا نہےں؟راستہ مےں خوش اخلاقی وکشادہ روئی کا بار بار تکرار کرتا رہا اور ےہ کوشش کرتا رہا کہ اپنے کو اس بات پر آمادہ کر لوں اور اپنی جگہ طے کر لوں کہ مےں اےک سعادت مند شخص ہوں،ےہ طے کرنے کے بعد مےں نے محسوس کےا کہ مےرے بدن کو بڑی راحت نصےب ہوگئی ہے اور جےسے مےں مسرتوں کی فضا مےں پرواز کر رہا ہوں،مےں نے مسکراتے ہوئے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی تو اےسا کچھ محسوس ہواجےسے مےرے چاروں طرف کے لوگوں کے آثار غم ہوےدا ہےں ۔ےہ دےکھ کر مجھے تکلےف ہوئی اور دل مےں ےہ احساس جاگ اٹھا کہ کاش مےرے اندر جو نور پےدا ہو گےا ہے اس کا کچھ حصہ دوسروں کو دےدوں۔
اپنے کمرے مےں پہنچ کر کےشےئر کو مےںنے بڑے تپاک سے سلام کےا۔اتنے تپاک سے سلام کےا کہ عام حالات مےں چاہے مےری جان چلی جاتی اےسا سلام نہ کرتا،مےرے سلام کرتے ہی وہ بھی بہت تپاک سے مجھ سے ملا اور ہمارے درمےان اےک محبت سی پےدا ہو گئی اور مےں نے محسوس کےا کہ مےری نشاط ومسرت نے اس کو بھی متاثر کر دےا۔اس کمپنی کا اےک منےجر اےسا تھا جو ہر وقت کام مےں مشغول رہتا تھا،اس کو سر اٹھا کر ادھر ادھر دےکھنے کی بھی فرصت نہ تھی۔وہ بہت تند مزاج تھا مجھے اس نے(مےرے کاموں کے بارے مےں)اتنا سخت وسست کہا کہ اگر دوسرا کوئی دن ہوتا تو مےں بہت دل شکستہ ورنجےدہ ہوتا ،کےوں کہ مےں ضرورت سے زےادہ ہی حساس ہوں لےکن اس دن چوں کہ مےں نے طے کر رکھا تھا۔کہ کسی بھی حادثہ مےں کبےدہ خاطر نہ ہوںگا اس لےے بڑے احترام سے اسے جواب دےا اور اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ اس کی پےشانی پر پڑی لکےرےں مٹ گئےں،اس دن کا ےہ دوسرا حادثہ تھا اس دن غروب آفتاب تک ےہی کوشش رہی کہ اپنے دوستوں کو خوش وخرم رکھوں، اس طرح مےں نے ہوٹل والوں کے ساتھ بھی اپنے تجربہ کو آزماےا اور اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ جو لوگ بالکل ہی غےر متعلق رہا کرتے تھے وہ مجھ سے قرےب ہونے لگے اور ان سے روابط وضوابط کافی بڑھ گئے۔
مختصر ےہ کہ متعدد تجربوں کے بعد مجھے ےہ ےقےن ہو گےا کہ خوش اخلاقی سے مےں خوش وخرم رہ سکتا ہوں اور اپنے اطراف والوں کو بھی خوش وخرم رکھ سکتا ہوں،اگر آپ بھی اسی طرےقہ کو اپنائےں گے تو دےکھےں گے کہ آپ کے چاروں طرف خوشےاں غنچوں کی طرح مسکراتی ہوں گی اور آپ کسی بھی قےمت پر بغےر دوست کے نہےں رہ سکتے،آپ کی روح پر سکون اور آرام کی حکومت ہوگی کوئی بھی شخص اےسا نہےں ہے جو اس صفت کی اہمےت کا قائل نہ ہو حد ےہ ہے کہ دشمن کے دل کو موہ لےنے کے لےے بھی ےہ صفت کا آمد ہے اےک محبت آمےز گفتگو جادو کا اثر رکھتی ہے گفتگو کرتے وقت ادب واحترام کا لحاظ دشمن کو زےر کرنے مےںبہت اہمےت رکھتا ہے ۔
قاری نسیم منگلوری
محلہ ٹولی منگلورضلع ہری دواراتراکھنڈ
قاری نسیم منگلوری9410149498

