لاؤڈ اسپیکر کا تنازع بہار تک پہنچا، شاہنواز نے کہا – پھیلائی جا رہی ہے کنفیوژن، تیجسوی نے کہا- بے روزگاری پر کب بات ہوگی

پورے ملک میں لاؤڈ سپیکر کے بارے میں بحث جاری ہے۔ بھلے ہی یہ تنازعہ مہاراشٹر سے شروع ہوا تھا لیکن ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس کو لے کر مسلسل سیاست ہو رہی ہے۔ اتر پردیش میں مذہبی مقامات سے مسلسل لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جا رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان اب یہ تنازعہ بہار تک بھی پہنچ گیا ہے۔ بہار حکومت کے ایک وزیر جنک رام نے کہا کہ اگر یہ قانونی حالت میں آتا ہے تو یہاں بھی لاؤڈ اسپیکر اترے گا۔ انہوں نے کہا کہ شور کی آلودگی سے بچنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اب اس پر سیاست شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے مذہب بڑا نہیں ہوتا، اگر یہ قانون یوپی میں لاگو ہوتا ہے تو بہار میں اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ اس سب کے درمیان جب رام مانجھی کی افطار پارٹی میں پہنچے شاہنواز حسین سے لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ سماج میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پہلی بار اذان دی گئی تو لاؤڈ سپیکر پر نہیں تھی۔ کچھ لوگ یہ وہم پھیلا رہے ہیں کہ اذان پر پابندی ہے۔ عدالت نے 10 بجے کے بعد اذان پر کوئی پابندی نہیں اور لاؤڈ اسپیکر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ دوسری جانب تیجسوی یادو نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ نیند ٹوٹ جاتی ہے، پریشانی ہوتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جو لوگ بے روزگار ہیں ان کی زندگیاں برباد ہو جاتی ہیں، اس پر مزید کیا بحث کی جائے۔ اتر پردیش میں مذہبی مقامات سے تقریباً 22,000 غیر مجاز لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے گئے ہیں اور مزید 42,000 لاؤڈ اسپیکروں کی آواز کو لاؤڈ اسپیکر تک کم کر دیا گیا ہے۔ ایک اہلکار نے یہ جانکاری دی۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (امن و قانون) پرشانت کمار نے کہا کہ مذہبی مقامات سے غیر مجاز لاؤڈ اسپیکرز کو ہٹانے اور جائز حدود میں دوسروں کی آواز اٹھانے کے لیے ریاست گیر مہم چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہبی مقامات سے بلا تفریق لاؤڈ سپیکر ہٹائے جا رہے ہیں۔