اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل تحریک کے موضوعات: لنڈا

واشنگٹن۔ امریکہ کے صدر جو بائڈن کے ذریعہ اقوام متحدہ کے دوت کی نامی لینڈا تھامس گرینفیلڈ سیکیورٹی کونسل میں ہندوستان کی مستقل تعلقات میں نئے تجویز کا واضح اشارہ نہیں دیا گیا۔ امریکی ریاستہائے مت حدہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش ، باراک اوباما اور ڈونلڈ ٹرپ انتظامیہ نے عوامی طور پر کہا کہ امریکہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل مزاج کی حمایت کی جاسکتی ہے۔ اس عہدے کے لئے نامزد ہونے سے پہلے تھامس گرینفیلڈ 35 سال سے زیادہ بیرون ملک خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ یہ خطہ اقوام متحدہ کے بیرونی مقامات کے اپنے نام کے ساتھ ہے۔ سانڈاورنس نے کہا کہ اس بحث کے موضوعات ہیں۔ سنڈے کے اوائمگن سے سینیٹر جیف مارکلے تھامس گرینفیلڈ سے پوچھا ، ” کیا تم ہندوستانی ، جرمنی ، جاپان ، اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے مستقل ممبر بن سکتے ہو۔ ” اس تھامس گرینفیلڈ نے کہا ، ” سلامتی کونسل میں ان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور اس سے کچھ مستحکم دلیل بھی ہیں۔ ” انہوں نے کہا ، ” میں اس سے بھی جانتا ہوں جیسے کسی دوسرے ملک (ملک) میں بھی شامل ہے۔ بننے سے عصمت ہیں۔ اس پر بھی بحث کا مضمون ہے۔ صدر بائیکن نے گذشتہ سال آپ کے انتخابی تشہیر کے دوران اقوام متحدہ کے استحکام کا سہارا لے لیا تھا۔ تھامس گرینفیلڈ کے ایک دوسرے مطالعہ کے جوابات میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ہندوستان میں موجودہ دو سالوں کے لئے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے عہدے دار ممبر ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر متوقع ممبروں کی بھارت کے عملی کام کی اس سال جنوری سے شروع ہوئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *