اتحادی جماعتیں بی جے پی سے خوش نہیں، اکھلیش نے کہا- اگلے انتخابات میں بھگوا پارٹی کے خلاف بنایا جائے گا مضبوط آپشن

لکھنؤ۔ بہار میں سیاسی تبدیلی کو مثبت علامت قرار دیتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے امید ظاہر کی ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف ایک مضبوط متبادل تیار ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں بی جے پی کے اتحادی ان سے خوش نہیں ہیں اور مستقبل میں حکمران جماعت سے تعلقات توڑ دیں گے۔ یادو نے جمعرات کو کہا کہ بہار میں چیف منسٹر نتیش کمار کا بی جے پی زیرقیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) سے تعلقات توڑنا اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، کانگریس اور کئی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر عظیم اتحاد کی حکومت بنانا ایک مثبت علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط متبادل تیار ہوگا۔ انہوں نے اتر پردیش میں گزشتہ اسمبلی انتخابات اور رام پور اور اعظم گڑھ لوک سبھا سیٹوں کے ضمنی انتخابات میں ایس پی کی شکست کے لیے الیکشن کمیشن کی بے ایمانی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ اگر کمیشن ایمانداری سے کام کرتا تو نتائج مختلف ہوتے۔ ایس پی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ریاست کے آخری اسمبلی انتخابات جمہوریت کو بچانے کی اپیل کے ساتھ لڑے تھے، لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب کوئی منصفانہ ادارہ نہیں بچا ہے۔ ان اداروں پر دباؤ ڈال کر حکومت مطلوبہ کام کرواتی ہے۔‘‘ یادو نے الزام لگایا، ’’الیکشن کمیشن نے بہت بے ایمانی کی ہے۔ ووٹرز کی بڑی تعداد کے نام ووٹر لسٹوں سے نکال دیے گئے۔ رام پور لوک سبھا ضمنی انتخاب میں ایس پی کارکنوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ اعظم گڑھ میں ایس پی کارکنوں کو سرخ کارڈ جاری کیے گئے۔ کیا الیکشن کمیشن سو رہا تھا؟ اس نے ہماری شکایات پر توجہ نہیں دی۔ پارٹی تنظیم کو مضبوط کرنے کے سوال پر ایس پی صدر نے کہا کہ ان کی پوری توجہ پارٹی کو مضبوط بنانے پر ہے اور اس سال پارٹی کا قومی کنونشن منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی رکنیت سازی مہم جاری ہے اور اسے اچھا رسپانس مل رہا ہے۔ ایس پی صدر نے کہا کہ اس بار یہ مہم موبائل ایپلیکیشن کے ذریعہ چلائی جارہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا، اتر پردیش میں بی جے پی کے اتحادی ان سے خوش نہیں ہیں۔ دیکھو آخر ان (اتحادیوں) کو کیا مل رہا ہے۔ ایک دن یہ سب اسے چھوڑ دیں گے (بی جے پی والے)۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا متبادل بنانے میں ایس پی کے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر یادو نے کہا، “تلنگانہ کے وزیر اعلی کے۔ چندر شیکھر راؤ، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار ایک متبادل پر کام کر رہے ہیں۔ ابھی ہماری توجہ اتر پردیش میں پارٹی کو مضبوط بنانے پر ہے۔ سال 2019 میں، ایس پی، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) نے اتر پردیش میں 80 لوک سبھا سیٹوں پر ایک ساتھ الیکشن لڑا تھا۔ بی ایس پی کو 10 اور ایس پی کو پانچ سیٹیں ملیں، جب کہ آر ایل ڈی کا کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔ گزشتہ جون میں رام پور اور اعظم گڑھ لوک سبھا ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد، ایس پی کی تعداد کم ہو کر تین ہو گئی ہے۔ اس سال کے آخر میں ہونے والے اربن باڈی انتخابات کے بارے میں ایس پی صدر نے کہا کہ اس کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں اور اس کے لیے انچارجوں کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ انسداد کووڈ ویکسین کی دوسری خوراک سے متعلق اعداد و شمار جعلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات اور ڈاکٹرز نہیں ہیں۔ لوگوں کو علاج نہیں مل رہا۔ ریاستی میڈیکل یونیورسٹی میں دلال دندناتے پھر رہے ہیں، وزراء اور افسران من مانی کر رہے ہیں، جب کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جائزہ میٹنگوں میں مصروف ہیں۔